فهرس الكتاب

الصفحة 3302 من 5761

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

3302 أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ أَنْبَأَنَا مَالِكٌ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا حَرَّمَتْهُ الْوِلَادَةُ حَرَّمَهُ الرَّضَاعُ

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ''جورشتے پیدائشی نسب کی وجہ سے حرام ہیں' رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہیں۔''

شریعت اسلامیہ نے رضاعت کو بھی نسبی رشتے کی طرح تقدس عطا کیا ہے۔ جس طرح نسبی لحاظ سے محترم رشتے نکاح کی لیے حرام قراردیے گئے ہیں' اسی طرح رضاعت کے لحاظ سے بھی رہی رشتے نکاح کے لیے حرام قررادیے گئے۔ البتہ یہ یادرہے کہ وہ رشتے دودھ پینے والے بچے پر ہی حرام ہوں گے' اس کے دیگر نسبی رشتہ داروں پر حرام نہیں ہوں گے' مثلًا دودھ پینے والی بچے پر اس کی رضاعی ماں اور بہن سے نکاح حرام ہے مگر اس بچے کے دیگر بھائیوں پر ان سے نکاح حرام نہیں کیا۔ گویا دودھ پینے والے پر تو اس کی رضاعی والدہ کا پورا خاندان حرام ہے مگر رضاعی ماں اور ا سکے خاندان پر بچے کا دیگر خاندان حرام نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت