فهرس الكتاب

الصفحة 60 من 5761

کتاب: امور فطرت کا بیان

60 أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ سَكَتَ هُنَيْهَةً فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي سُكُوتِكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ قَالَ أَقُولُ اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنْ الدَّنَسِ اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو کچھ دیر چپ رہتے تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔ آپ تکبیر تحریمہ اور قراءت کے درمیان خاموشی کے وقت کیا پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ''میں کہتا ہوں: [اللھم باعدبینی…… بالئلج والماء و البرد] ''اے اللہ! میرے اور میری غلطیوں کے درمیان اتنا فاصلہ کر دے جتنا فاصلہ تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان کیا ہے۔ اے اللہ! مجھے میری غلطیوں سے اس طرح صاف فرما دے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! مجھے میری غلطیوں سے برف، پانی اور اولوں کے ساتھ دھو دے۔''

(۱) حدیث کی باب سے مطابقت واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برف کو پانی کے برابر ذکر فرمایا ہے، لہٰذا اس سے وضو ہوسکتا ہے۔ (۲) اس دعا میں پانی، برف اور اولوں کے ذکر سے مقصود یہ ہے کہ میرے گناہوں کو ہر ممکن طریقے سے مجھ سے دور فرما دے۔ ان سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی مختلف صورتوں کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت