فهرس الكتاب

الصفحة 312 من 5761

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟

312 أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي جُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الْأَنْصَارِيِّ فَقَالَ أَبُو جُهَيْمٍ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ الْجَمَلِ وَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ

حضرت ابوجہیم رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بئر جمل کی طرف سے آئے۔ آپ کو آگے سے ایک آدمی ملا اور اس نے آپ کو سلام کہا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب نہ دیا حتی کہ آپ ایک دیوار کی طرف گئے، چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا، پھر اسے جواب دیا۔

(۱) بئر جمل مدینے میں ایک جگہ کا نام ہے۔ (۲) سلام کا جواب دینے کے لیے طہارت شرط نہیں مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسب نہ سمجھا کہ اللہ کا ذکر بلا طہارت کیا جائے۔ وضو کی گنجائش نہ تھی، لہٰذا آپ نے تیمم فرمایا کہ یہ بھی مجبوری کے وقت ایک قسم کی طہارت ہے۔ اس سے احناف نے عید اور جنازے کے لیے تیمم کے جواز پر استدلال کیا ہے، مگر یہ استدلال کمزور ہے کیونکہ ذکر کے لیے تو وضو شرط نہیں مگر جنازے اور عید کے لیے تو وضو شرط ہے۔ خیر امام نسائی رحمہ اللہ کا مقصود تو یہ ہے کہ تیمم صرف سفر ہی میں نہیں، گھر میں بھی جائز ہے، اگر پانی نہ مل سکے یا بیماری کی وجہ سے پانی استعمال نہ کیا جاسکے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت