فهرس الكتاب

الصفحة 113 من 5761

کتاب: وضو کا طریقہ

113 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ يَعْنِي عُمَارَةَ قَالَ حَدَّثَنِي الْقَيْسِيُّ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأُتِيَ بِمَاءٍ فَقَالَ عَلَى يَدَيْهِ مِنْ الْإِنَاءِ فَغَسَلَهُمَا مَرَّةً وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ مَرَّةً مَرَّةً وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ بِيَمِينِهِ كِلْتَیهُمَا

حضرت عبدالرحمٰن بن ابو قراد قیسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ کے پاس کچھ پانی لایا گیا تو آپ نے برتن سے اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور انھیں ایک دفعہ دھویا، پھر اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں کو ایک ایک دفعہ دھویا۔ اور اپنے دونوں پاؤں اپنے دونوں ہاتھوں سے دھوئے۔

(۱) فاضل محقق نے مذکورہ روایت کو سندًا صحیح قرار دیا ہے، حالانکہ اس کی سند میں عمارہ بن عثمان بن حنیف راوی مجہول ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے سندًا ضعیف قرار دیا ہے۔ دلائل کی رو سے انھی کی رائے درست معلوم ہوتی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (العلل لابن أبي حاتم: ۵۷/۱، والموسوعۃ الحدیثیۃ، مسند الإمام أحمد: ۲۰۰/۳۸) (۲) روایت میں جو مسئلہ بیان ہوا ہے، اس کی بابت درست رائے یہ معلوم ہوتی ہے کہ دونوں ہاتھوں سے پاؤں دھونا جائز ہے کیونکہ اس کی ممانعت کی کوئی دلیل نہیں ہے، البتہ مستحب اور اولیٰ یہی ہے کہ پاؤں کو بائیں ہاتھ سے دھویا جائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر اچھا عمل دائیں ہاتھ سے یا دائیں طرف سے کیا کرتے تھے اور اس کے علاوہ کوئی بھی کام بائیں طرف سے بائیں ہاتھ سے کیا کرتے تھے، نیز پاؤں کو دھونے سے مقصود عمومًا میل کچیل دور کرنا ہے جسے بائیں ہاتھ ہی سے دور کرنا بہتر اور مستحب معلوم ہوتا ہے، البتہ دونوں ہاتھوں سے دھونا بھی جائز ہے۔ واللہ أعلم۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت