فهرس الكتاب

الصفحة 1786 من 5761

کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل

1786 أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَتْ لَهُ صَلَاةٌ صَلَّاهَا مِنْ اللَّيْلِ فَنَامَ عَنْهَا كَانَ ذَلِكَ صَدَقَةً تَصَدَّقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ وَكَتَبَ لَهُ أَجْرَ صَلَاتِهِ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس آدمی کی کوئی مقرر شدہ نماز ہو جسے وہ لازمًا رات کو پڑھتا ہو لیکن کسی دن (اتفاقًا) وہ سویا رہا (اور اسے نہ پڑھ سکا) تو نیند اس کے لیے صدقہ ہوگی جو اللہ تعالیٰ نے اس پر کیا ہے اور وہ اس کے لیے اس کی (مقررہ) نماز کا ثواب لکھے گا۔''

سابقہ حدیث کی سند میں حضرت سعید بن جبیر اورحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان ایک شخص کا واسطہ تھا جس کا نام ذکر کرنے کے بجائے صرف ''پسندیدہ شخص'' کہا گیا، مذکورہ حدیث میں اس کا نام مذکور ہے، اوروہ ہے اسود بن یزید، لہٰذا یہ عنوان قائم کیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت