5383 أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا اجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''جب کوئی حاکم فیصلہ کرتے وقت صحیح نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کرے اور صحیح فیصلہ کر دے تو اس کو دگنا ثواب ملے گا اور اگر وہ کوشش کرے لیکن صحیح فیصلے تک نہ پہنچ سکے تو اس کے لیے اکہرا ثواب ہے۔''
انسان کے بس میں کوشش ہی ہے۔ اگر وہ کوشش کرے تو اسے کوشش کا ثواب ضرور ملتا ہے، نتیجہ حاسل ہو یا نہ کیونکہ نتیجہ انسان کے اختیار میں نہیں۔ حسن نیت اور کوشش ہی اصل ہے۔