فهرس الكتاب

الصفحة 1640 من 5761

کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل

1640 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَ إِذَا دَخَلَتْ الْعَشْرُ أَحْيَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رمضان المبارک کا آخری دہاکا (دس دن) شروع ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ساری رات جاگتے (عبادت کرتے) اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور اپنا تہ بند کس لیتے۔

(۱) ''تہ بند کس لیتے'' یہ کنایہ ہے۔ مقصد یہ ہے کہ عبادت کی پوری تیاری فرمالیتے کیونکہ لمبا اور سخت کام کرنے والا شخص پانے تہ بند کو اچھی طرح کس لیتا ہے تاکہ درمیان میں یہ ڈھیلا نہ ہو۔ (۲) اللہ رب العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کدیے تھے، اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نفلی نماز میں اس قدر محنت و مشقت سے کام لیتے تھے۔ ہمیں بھی نفلی عبادت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ (۳) رمضان المبارک کی آخری دس راتیں باقی راتوں سے زیادہ افضل ہیں۔ (۴) عبادت کےلیے گھر والوں کو بھی جگانا مستحب امر ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت