1028 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ فِيهَا صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''وہ نماز نہیں ہوتی جس میں انسان رکوع اور سجدے کے دوران میں اپنی پشت کو سیدھا نہ رکھے۔''
پشت یا کمر سیدھا کرنے یا رکھنے سے مراد رکوع اور سجدے میں اطمینان کرنا ہے جو حدیث کی رو سے واجب ہے مگر احناف کی اکثریت اسے ضروری نہیں سمجھتی، اس لیے کہ لغت میں رکوع اور سجدے کے معنی میں اطمینان نہیں لکھا۔ کیا ان حضرات سے یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ نماز قرآن و سنت سے ماخوذ ہے یا لغت سے؟ تعجب نہیں کہ لغب لکھے تو واجب، حدیث میں آئے تو غیر واجب؟ استغفراللہ! انا للہ و انا الیہ راجعون۔