فهرس الكتاب

الصفحة 249 من 5761

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟

249 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ أَنْبَأَنَا يَحْيَى قَالَ أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْجَنَابَةِ أَنَّهُ كَانَ يَغْسِلُ يَدَيْهِ وَيَتَوَضَّأُ وَيُخَلِّلُ رَأْسَهُ حَتَّى يَصِلَ إِلَى شَعْرِهِ ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ

حضرت عمروہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کی بابت بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (سب سے پہلے) اپنے ہاتھ دھوتے تھے اور وضو فرماتے اور اپنے سر کے بالوں میں (گیلی) انگلیاں پھیرتے تھے، (حتی کہ بال گیلے ہو جاتے) پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہاتے۔

بال بڑے ہوں تو بسا اوقات پانی بالوں پر سے پھسل جاتا ہے اور جڑیں اور چمڑا خشک رہ جاتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ بالوں میں گیلی انگلیاں پھیری جائیں۔ اس طرح بال الگ الگ ہو جائیں گے، گنجلگ نہیں رہیں گے۔ ان سے پانی گزرنا آسان ہو جائے گا، جڑیں اور چمڑا تر ہو جائے گا، لہٰذا ضروری ہے کہ جہاں پانی نہ پہنچنے کا خدشہ ہو، وہاں قصدًا پہنچایا جائے، ایسا نہ ہو کہ جنابت زائل نہ ہو اور غسل بے فائدہ رہ جائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت