فهرس الكتاب

الصفحة 2614 من 5761

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

2614 أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِشَيْءٍ سَأَلَ عَنْهُ أَهَدِيَّةٌ أَمْ صَدَقَةٌ فَإِنْ قِيلَ صَدَقَةٌ لَمْ يَأْكُلْ وَإِنْ قِيلَ هَدِيَّةٌ بَسَطَ يَدَهُ

حضرت بہز بن حکیم کے دادا بیان کرتے ہیں کہ جب نبیﷺ کے پاس کوئی چیز لائی جاتی تو آپ اس کے بارے میں پوچھتے کہ یہ تحفہ ہے یا صدقہ؟ اگر کہا جاتا: صدقہ ہے، تو آپ نہیں کھاتے تھے اور اگر کہا جاتا ہے: تحفہ ہے، تو آپ تناول فرما لیتے تھے۔

صدقات سے پرہیز میں آپ ہی تو اصل ہیں تاکہ کسی نابکاری کے لیے اعتراض کی گنجائش نہ رہے۔ آل نبی تو آپ کی فرع ہونے کی وجہ سے اس حکم میں داخل ہیں۔ ممکن ہے باب کا مقصد یہ ہو کہ نبیﷺ کے لیے نفل صدقات بھی حلال نہ تھے، البتہ ازواج مطہراتؓ کے لیے نفل صدقات حلال تھے جیسا کہ بہت سی احادیث سے ثابت ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت