4553 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُزَابَنَةِ أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ وَإِنْ كَانَ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلًا وَإِنْ كَانَ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلًا وَإِنْ كَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ نَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ وہ یہ ہے کہ (کوئی شخص) اپنے باغ کا پھل (مثلاََ) تازہ کھجوریں خشک تولی ہوئی کھجوروں کے عوض بیچے۔ اسی طرح انگوروں کو تولے ہوئے منقیٰ کے عوض بیچے اور اگر کھیتی ہو تو اسے معین غلے کے عوض بیچے۔ آپ نے ان تمام صورتوں سے منع فرما دیا۔
ان بیوع کو مزابنہ اور محاقلہ کہا جاتا ہے۔ حرمت کی وجہ حدیث نمبر: ۴۵۲۳۸ میں گزر چکی ہے۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھیے فوائد مسائل، حدیث: ۳۹۱۰)