فهرس الكتاب

الصفحة 4366 من 5761

کتاب: قربانی سے متعلق احکام و مسائل

4366 أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ وَهُوَ ابْنُ شُمَيْلٍ قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ ابْنِ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ رَأَى هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ فَأَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ حَتَّى يُضَحِّيَ

حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص ذوالحجہ کا چاند دیکھ لے اور وہ قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے حتی کہ قربانی کر لے۔

(۱) اس حدیث سے قربانی کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ (۲) اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوا کہ جو آدمی قربانی کرنا چاہتا ہو، وہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد اپنے بال اور ناخن وغیرہ کاٹے نہ تراشے۔ (۳) ''چاند دیکھ لے۔'' مقصد یہ ہے کہ ذوالحجہ کا چاند طلوع ہو جائے ورنہ یہ ضروری نہیں کہ ہر آدمی اسے دیکھے۔ (۴) ''ارادہ رکھتا ہو'' گویا جو شخص قربانی کا ارادہ نہ رکھتا ہو، اس پر یہ پابندی نہیں مگر اس کے لیے بہتر ہے کہ وہ قربانی کے دن ہی حجامت بنوائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت