فهرس الكتاب

الصفحة 5531 من 5761

کتاب: اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرنے کا بیان

5531 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي قَالَ جُبَيْرٌ وَهُوَ الْخَسْفُ قَالَ عُبَادَةُ فَلَا أَدْرِي قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَوْلُ جُبَيْرٍ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نےفرمایا:میں نے رسول اللہﷺ کوفرماتے سنا:اے اللہ میں اس بات سے تیری عظمت کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں نیچے سے اچانک ہلاک کر دیا جاؤں ۔''یہ حدیث مختصر ہے ۔ جبیر نے کہا کہ نیچے سے اچانک ہلاک کردیے جانے سے مراد ہے زمین میں دھنس جانا۔ عبادہ نےکہا:میں نہیں جانتا کہ یہ نبی ﷺ کافرمان ہے یا جبیر کا (اپنا) قول ہے۔

1۔تیر ی عظمت جس طرح اللہ تعالی کی ذات سے پناہ لی جاسکتی ہے اسی طرح اللہ تعالی کی صفات کی پناہ بھی لی جاسکتی ہے کیونکہ صفات ذات سے الگ نہیں ہوتیں ۔ مقصود ایک ہی ہے ۔

2۔''نیچےسے''یعنی ایسے عذاب سے جوزمین سےآئے ۔ اوردھنسایا جانا (خسف) بھی زمینی عذاب ہی سے ہوتاہے۔ زلزلہ بھی مراد ہوسکتاہے ۔ واللہ اعلم .

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت