1632 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس رات مجھے معراج کروائی گئی، میں ایک سرخ ٹیلے کے قریب موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا۔ وہ کھڑے اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔''
ایک اور روایت ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر سرخ ٹیلے کے قریب ہے۔ (صحیح البخاری، الجنائر، حدیث:۱۳۳۹، وصحیح مسلم، الفضائل، حدیث:۲۳۷۲) حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اپنی قبر میں نماز پڑھنا عالم برزخ کی چیز ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر منکشف کی گئی۔ اگر یہ روح کے علاوہ جسم کے ساتھ بھی ہو تو وہ جسم بھی برزخی ہی ہوگا، لہٰذا اس سے انبیاء علیہم السلام کی دنیوی زندگی ثابت نہیں ہوسکتی۔ برزخی زندگی کا انکار نہیں۔