فهرس الكتاب

الصفحة 707 من 5761

کتاب: مسجد سے متعلق احکام و مسائل

707 حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَأْذَنَتْ امْرَأَةُ أَحَدِكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَا يَمْنَعْهَا

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب تم میں سے کسی کی عورت مسجد میں جانے کی اجازت طلب کرے تو وہ اسے نہ روکے۔''

عورتیں بوڑھی ہوں یا جوان باپردہ ہوکر ہر نماز کے لیے مسجد میں آسکتی ہیں۔ اگرچہ عورتوں کے لیے گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے مگر جماعت کے اپنے فوائد ہیں۔ عورت باپردہ ہوکر جماعت کے وقت کے قریب آئے اور جماعت ختم ہوتے ہی واپس چلی جائے تاکہ مردوںسے اختلاط نہ ہو، سنتیں گھر جاکر پڑھے۔ ان شرائط کے ساتھ عورت اجازت طلب کرے تو شوہر یا ولی کو روکنے کا اختیار نہیں، اسے اجازت دے دینی چاہیے، البتہ اگر غیرمعمولی حالات ہوں، امن و امان ناپید ہو تو پھر صرف نماز ہی نہیں بلکہ باقی کاموں کے لیے بھی باہر جانا جائز نہ ہوگا۔ لیکن تعجب کی بات ہے کہ بیاہ شادی، مرگ و سوگ، میل ملاقات، درباروں اور پیروں کے پاس حاضری، خریداری، الیکشن کے ووٹوں اور باہر زمین کے کام کاج وغیرہ کے لیے عورت جائے تو کوئی ڈر نہیں مگر نماز کے لیے مسجد میں آئے تو فساد کا ڈر ہے۔ احناف صرف بوڑھی عورتوں کو رات کے وقت اجازت دیتے ہیں، مگر کیا وہ باقی امور کے لیے بھی یہ پابندی قائم کریں گے؟ نیز یہ صحابیات کے طرزِ عمل اور حدیث شریف کے بالکل خلاف ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت