فهرس الكتاب

الصفحة 318 من 5761

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟

318 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ عَنْ ذَرٍّ عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنْ التَّيَمُّمِ فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ فَقَالَ عَمَّارٌ أَتَذْكُرُ حَيْثُ كُنَّا فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّمَا يَكْفِيكَ هَكَذَا وَضَرَبَ شُعْبَةُ بِيَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَنَفَخَ فِي يَدَيْهِ وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ مَرَّةً وَاحِدَةً

حضرت عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے تیمم کے بارے میں پوچھا تو ان کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کہیں؟ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کہنے لگے، کیا آپ کو یاد ہے جب ہم ایک لشکر میں تھے تو میں جنبی ہوگیا تو میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو آپ نے فرمایا: ''تمھیں صرف اس طرح کافی تھا۔'' اور شعبہ نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر مارے اور دونوں ہاتھوں میں پھونکا، پھر انھیں چہرے اور ہتھیلیوں پر ایک دفعہ مل لیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت