5459 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى عَنْ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ وَهُوَ ابْنُ مَالِكٍ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَعَنْ الدَّجَّالِ قَالَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ
حضرت انس بن مالک سے عذاب قبر اور دجال کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ اللہ کے نبئ ﷺفرمایا کرتے تھے:'' اے اللہ !میں کاہلی 'شدید بڑھاپے 'بزدلی 'بخل 'فتنہ دجال اور عذاب قبر سے (بچنے کے لیے) تیری پناہ حاصل کرتا ہوں ۔'
حضرت انس کے جواب کا مطلب یہ ہے کہ واقعتًادجال آئے گا اور عذاب قبر بر حق ہے ۔فتنہ دجال س مراد اس کی پیروی کرنا ہے۔یا مقصود یہ ہے کہ ہماری زندگی میں دجال آئے ہی نہ تا کہ ہم اس آزمائش سے بچ جائیں ۔ پہلی صورت میں فتنے کے معنیٰ ہوں گے گمراہی جو آزمائش کا نتیجہ بن سکتی ہے ۔