فهرس الكتاب

الصفحة 2969 من 5761

کتاب: مواقیت کا بیان

2969 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا ثُمَّ صَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا مِنْ الْبَابِ الَّذِي يُخْرَجُ مِنْهُ فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَ شُعْبَةُ وَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ سُنَّةٌ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہﷺ مکہ تشریف لائے تو آپ نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے، پھر مقام ابراہیم کی اوٹ میں دو رکعتیں پڑھیں، پھر اس دروازے سے کوہ صفا کے لیے نکلے جس سے (عمومًا) نکلا جاتا تھا، پھر صفا اور مروہ کے درمیان چکر لگائے۔

شعبہ نے کہا: مجھے ایوب نے بواسطہ عمرو بن دینار ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی ہے کہ یہ (صفا مروہ کے درمیان سعی) سنت ہے۔

''سنت ہے۔'' یعنی اسلام کا رائج کردہ طریقہ ہے جس کی پابندی لازمی ہے۔ یہ سنت فرض کے مقابلے میں نہیں۔ (تفصیل آگے آرہی ہے۔)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت