فهرس الكتاب

الصفحة 3467 من 5761

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

3467 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَفِي حَدِيثِ الْحَارِثِ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ''اعمال کا اعتبار نیت کے ساتھ ہے۔ ہر آدمی کو اس کی نیت ملے گی۔ چنانچہ جس شخص کی ہجرت اللہ اور ا سکے رسول کی خاطر ہوگی' اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت ہی کا ثواب ملے گا اور جس شخص کی ہجرت دنیا کے حصول یا کسی عورت (سے شادی) کی خاطر ہوگی تو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہوگی جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔''

امام نسائی رحمہ اللہ کا مقصود یہ ہے کہ متکلم اپنے کلام سے جو معنی مراد لے گا' وہی معتبر ہوگا بشرطیکہ کلام ان کا احتمال رکھتا ہو۔ کوئی مخاطب اپنی مرضی کے معنی کسی کلام سے کشید نہیں کرسکتا۔ اپنے کلام کا مقصود بیان کرنا متکلم کا حق ہے کہ مخاطب کا۔ چونکہ نیت اصل ہے اور نیت متکل ہی بیان کرسکتا ہے' لہٰـذا اگر کوئی شخص ایسا لفظ بولے جو طلاق کے معنی کا بھی احتمال رکھتا ہوں اور دوسرے معنی کا بھی' طلاق تبھی مراد ہوگی اگر متکلم طلاق کے معنی مراد لے ورنہ طلاق نہیں ہوگی' مثلا: کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے: ''میرے گھر سے نکل جا۔'' یہ حدیث تفصیلًا گزر چکی ہے۔ دیکھیے' حدیث:۷۵۔ کتاب الوضو)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت