فهرس الكتاب

الصفحة 2050 من 5761

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

2050 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ شَيْبَانَ وَكَانَ ثِقَةً، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، أَنَّ بَشِيرَ ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ عَلَى قُبُورِ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ: «لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلَاءِ شَرًّا كَثِيرًا» ، ثُمَّ مَرَّ عَلَى قُبُورِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: «لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا» ، فَحَانَتْ مِنْهُ الْتِفَاتَةٌ، فَرَأَى رَجُلًا يَمْشِي بَيْنَ الْقُبُورِ فِي نَعْلَيْهِ، فَقَالَ: «يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ أَلْقِهِمَا»

حضرت بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا، آپ چند مسلمانوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ''یہ لوگ (وفات کی وجہ سے) بہت زیادہ شر سے بچ گئے ہیں۔'' پھر آپ کچھ مشرکین کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ''یہ لوگ (اپنی موت کی وجہ سے) بہت زیادہ خیر سے محروم رہے۔'' اچانک آپ نے توجہ فرمائی تو ایک شخص کو قبرستان میں جوتوں سمیت چلتے دیکھا تو فرمایا: ''اوصاف رنگے ہوئے (رنگ کر صاف کیے ہوئے) چمڑے کے جوتے پہننے والے! انھیں اتار دے۔''

اس حدیث سے ظاہرًا معلوم ہوتا ہے کہ قبرستان میں جوتوں سمیت نہیں چلنا چاہیے تاکہ قبروں کا احترام قائم رہے، آئندہ دو روایات سے امام صاحب رحمہ اللہ نے قبرستان میں جوتوں سمیت چلنے کا جواز نکالا ہے، اس لیے وہ ظاہر الفاظ کی رعایت سے یہ تطبیق دے رہے ہیں کہ رنگ کر صاف کیے ہوئے چمڑے کے جوتے پہن کر چلنا منع ہے، سادہ جوتے پہن کر چل سکتا ہے مگر یہ تطبیق دل کو نہیں لگتی۔ آئندہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ''جب میت کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور دفنانے والے واپس آ جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔'' اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قبرستان میں جوتوں سمیت جانا اور قبروں کے درمیان پھر ناجائز ہے کیونکہ اس کی کوئی صراحت نہیں۔ قبرستان میں داخل ہوتے وقت جوتے اتار دیے جائیں اور واپسی پر پہن لیے جائیں۔ یہ مفہوم اس حدیث کے مخالف نہیں بلکہ عین موافق ہے، اس لیے راجح بات یہی ہے کہ قبرستان میں جوتے پہن کر نہ جایا جائے، اگر کوئی ایسا عذر ہے کہ جوتوں کے بغیر اندر جانا ممکن نہیں، مثلًا کانٹے یا کنکریاں وغیرہ ہیں یا زمین بہت گرم ہے تو پھر مجبوری کے تحت پہنے جا سکتے ہیں۔ (وقد فصل لکم ما حرم علیکم الا ما اضطررتم الیہ) اور (لایکلف اللہ نفسا الا و سعھا) کا تقاضا یہی ہے۔ واللہ أعلم۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت