فهرس الكتاب

الصفحة 414 من 5761

کتاب: غسل اور تیمم سے متعلق احکام و مسائل

414 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ عَنْ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ ح و أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ أُبَادِرُهُ وَيُبَادِرُنِي حَتَّى يَقُولَ دَعِي لِي وَأَقُولَ أَنَا دَعْ لِي قَالَ سُوَيْدٌ يُبَادِرُنِي وَأُبَادِرُهُ فَأَقُولُ دَعْ لِي دَعْ لِي

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے۔ میں (پانی لینے میں) آپ سے جلدی کرتی تھی اور آپ مجھ سے جلدی کرتے تھے حتیٰ کہ آپ فرماتے: ''میرے لیے بھی پانی رہنے دے۔'' اور میں کہتی تھی: میرے لیے بھی پانی رہنے دیں۔

حضرت سوید نے یوں حدیث بیان فرمائی: [یبادرنی وابادرہ فاقول: دع لی دع لی] ''آپ مجھ سے جلدی کرتے، میں آپ سے جلدی کرتی۔ میں کہتی میرے لیے بھی پانی رہنے دیں، میرے لیے بھی پانی رہنے دیں۔''

اس روایت میں بھی امام نسائی رحمہ اللہ کے دو استاد ہیں، محمد بن بشار اور سوید بن نصر۔ دونوں کے الفاظ میں تقدیم و تاخیر ہے۔ معنی میں کوئی فرق نہیں۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے اس لفظی فرق کی بھی وضاحت فرما دی۔ مزید دیکھیے: حدیث۲۴۰کے فوائدومسائل۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت