فهرس الكتاب

الصفحة 2525 من 5761

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

2525 أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الذَّارِعُ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ وَأَنْبَأَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَاللَّفْظُ لِبِشْرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَقْبَلُ صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ وَلَا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ

حضرت ابو ملیح کے والد سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے سنا: ''اللہ تعالیٰ طہارت کے بغیر نماز قبول نہیں کرتا اور حرام مال سے صدقہ قبول نہیں کرتا۔''

قبولیت کا مطلب ثواب ہے، یعنی حرام مال دے صقہ کرنے والے کو ثواب نہ ملے گا، البتہ اس سے فقر کو فائدہ ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ حرام مال اس شخص کے لیے ناجائز ہے جس نے ناحق حاصل کیا، تاہم فقیر چونکہ اس بات سے ناواقف ہے کہ صدقہ کرنے والے نے صدقہ حرام مال سے کیا ہے یا حلال مال سے، اس لیے اس کے لیے اس کا استعمال جائز ہوگا، لیکن علم رکھتے ہوئے کسی حرام کی کمائی سے صدقہ لینا اس کے لیے جائز نہ ہوگا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت