3828 أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ قَالَ كُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَبِيعُ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ مِنْ اسْمِنَا فَقَالَ يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ وَالْكَذِبُ فَشُوبُوا بَيْعَكُمْ بِالصَّدَقَةِ
حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں (تاجروں کو) دلال کہا جاتا تھا۔ رسول اللہﷺ ہمارے پاس (بازار میں) تشریف لائے۔ ہم خریدوفروخت کررہے تھے۔ آپ نے ہمارے نام سے بہتر نام ہمارے لے مقرر فرمایا۔ آپ نے فرمایا: ''اے تاجروں کی جماعت! بیچتے وقت (بسا اوقات بلا قصد) قسم اور جھوٹ صادر ہوجاتے ہیں' لہٰذا تم فروخت کے ساتھ ساتھ صدقہ بھی کیا کرو۔''
(۱) سماسرہ، سمسار کی جمع ہے۔ یہ عجمی لفظ ہے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو لوگوں کی چیزیں اجرت لے کر بیچتے ہیں۔ عجمی لوگ تجارت کا کام زیادہ کرتے تھے' لہٰذا یہ لفظ سب تاجروں کے لیے استعمال ہونے لگا۔ آپ نے اس لفظ کو پسند نہیں فرمایا اور اسے تجار سے بدل دیا۔ (۲) اس حدیث کا یہ مقصود نہیں کہ تاجر لوگ جھوٹی قسمیں کھا کر اور جھوٹ بول کر تجارت کرتے رہیں اور بعد میں کچھ صدقہ کردیا کریں۔ اللہ خیرسلا' بلکہ امام صاحب رحمہ اللہ نے اس حدیث کا مفہوم متعین فرمایا کہ یہاں قسم اور جھوٹ سے مراد بلاارادہ قسم اور جھوٹ کے الفاظ صادر ہونا ہے' اس لیے صدقے کا حکم دیا ورنہ جھوٹی قسم کے ذریعے سے سامان بیچنا بہت بڑا گناہ ہے جو حقوق العباد کی ذیل میں آتا ہے۔ صدقہ بھی اسے نہیں مٹا سکتا لیکن عمومًا صدقہ کرتے رہنا چاہیے کیونکہ صدقہ گناہوں کو مٹاتا ہے۔ (۳) مخاطب کو اچھے نام سے پکارنا مستحب ہے۔