784 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: أَنْبَأَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ فِي الْهِجْرَةِ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ سِنًّا، وَلَا تَؤُمَّ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ وَلَا تَقْعُدْ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَكَ»
حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی صاحب اقتدار شخص کی سلطنت میں اس کی امامت نہ کرائی جائے اور نہ اس کی مسند خاص پر بیٹھا جائے مگر اس کی اجازت سے۔
یعنی جب مختلف لوگ جمع ہوں اور حکمران یا والی بھی موجود ہو تو بلا امتیاز کوئی بھی اس کی اجازت کے بغیر امامت نہیں کرا سکتا، امام صاحب رحمہ اللہ کا ترجمۃ الباب سے یہی مقصد معلوم ہوتا ہے۔ لیکن یہ تب ہے جب حکمران دیندار اور باشرع ہو، فاسق حکمران کی امامت مراد نہیں کیونکہ زیر بحث اصول و ضوابط اور مسائل کا انطباق تبھی ممکن ے جب معاشرہ اسلامی اور حکمران دیندار ہو۔ بعض نے [فن سلطانہ] سے کسی کا دائرۂ اختیار مراد لیا ہے، معروف معنی سلطنت یا حکمرانی مراد نہیں لیے، سب اس سے صرف حکمران یا صاحب اقتدار شخص مراد نہ ہوگا۔ واللہ أعلم۔