فهرس الكتاب

الصفحة 139 من 5761

کتاب: وضو کا طریقہ

139 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ وَلَا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ

حضرت ابو ملیح اپنے والد محترم سے بیان کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ کوئی نماز بغیر طہارت (وضو) کے قبول نہیں فرماتا اور نہ حرام مال سے صدقہ قبول فرماتا ہے۔''

(۱) نماز قبول نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ نماز صحیح نہیں ہوتی، فریضہ ادا نہیں ہوتا اور ثواب بھی نہیں ہوتا، لہٰذا وضو اور جنابت کی حالت میں غسل نماز کے لیے شرط ہے۔ وضو کے بغیر نماز کا شرعًا کوئی وجود نہیں۔ (۲) غلول خفیہ طریقے سے خیانت کو کہتے ہیں۔ یہاں مطلق خیانت مراد ہے، یعنی حرام طریقے سے حاصل شدہ مال کیونکہ ہر حرام کے حصول میں کسی نہ کسی خیانت کا ارتکاب ہوتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت