کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟
255 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ سَالِمٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَ فَأُتِيَ بِمِنْدِيلٍ فَلَمْ يَمَسَّهُ وَجَعَلَ يَقُولُ بِالْمَاءِ هَكَذَا
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حسل فرمایا اور بعد میں رومال لایا گیا تو آپ نے اسے قبول نہ فرمایا بلکہ پانی کو ہاتھوں کے ساتھ اس طرح جھاڑنے لگے۔
ہاتھوں سے پانی جھاڑنے سے یہ ثابت ہوا کہ وضو یا غسل کے بعد پانی اعضاء پر باقی رہنا ضروری نہیں، اسے صاف کیا جا سکتا ہے، ہاتھوں سے یا رومال اور تولیے وغیرہ سے۔ بعض لوگوں نے اس روایت سے تولیے کا استعمال ناپسندیدہ قرار دیا ہے مگر یہ استدلال درست نہیں ہے۔