فهرس الكتاب
1510 أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ أَنَّ عَمَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْقِي فَحَوَّلَ رِدَاءَهُ وَحَوَّلَ لِلنَّاسِ ظَهْرَهُ وَدَعَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقَرَأَ فَجَهَرَ
حضرت عباد بن تمیم کے چچا (حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ میں بھی دعائے استسقاء کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا تھا۔ آپ نے اپنی چادر الٹائی اور لوگوں کی طرف پشت کرلی اور دعا کرنے لگے، پھر دو رکعتیں پڑھائیں اور ان میں بلند آواز سے قراءت کی۔
دعائے استسقاء میں امام کو بھی قبلہ رخ ہونا چاہیے۔ باقی لوگ تو عام دعا میں بھی قبلہ رخ ہوتے ہیں تاکہ ایک دوسرے کی طرف منہ نہ ہو۔ اس طرح خشوع خضوع اعلیٰ درجے کا ہوگا۔ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے سے خشوع خضوع میں فرق آسکتا ہے۔