3810 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي السَّلِيلِ عَنْ زَهْدَمٍ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا عَلَى الْأَرْضِ يَمِينٌ أَحْلِفُ عَلَيْهَا فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُهُ
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ''میںاس زمین کی جس چیز پر بھی قسم کھالوں' پھر اس کے علاوہ کسی اور چیز کو بہتر دیکھوں تو میں وہ بہتر کام کروں گا۔''
زمین سے شاید اشارہ ہو کہ دنیوی چیزوں میں میرا یہ طریق کار ہے۔ باقی رہے دینی کام تو وہ سب کے سب بہتر ہوتے ہیں۔ انہیں چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دنیوی کاموں میں اگر کسی غیر بہتر چیز پر قسم کھائی گئی تو اسے چھوڑ کر بہتر کام کرلینا چاہیے' قسم کا کفارہ دے دیا جائے' البتہ اگر کسی جائز کام پر فریقین کے درمیان وعدہ یا معاہدہ طے پاگیا ہے اور آدمی نے اسے پورا کرنے کی قسم کھالی ہے مگر بعد میں وہ دیکھتا ہے کہ فائدہ یا نفع فریق ثانی کے حق میں جارہا ہے' مجھے اس میں نقصان ہے' تو اس صورت میں وہ قسم کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا کیونکہ اس میں فریق ثانی کا بھی حق ہے جو مجروح ہوتا ہے۔ گویا حدیث میں مذکور طریق کار ذاتی افعال میں ہوگا نہ کہ کسی دوسرے کے حق میں' ورنہ یہ خود غرضی ہوگی۔