فهرس الكتاب

الصفحة 4665 من 5761

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

پانی کی بیع

4665 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ يَقُولُ: سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ عُمَرَ، وَقَالَ مَرَّةً: ابْنَ عَبْدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَنْهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ» ، قَالَ قُتَيْبَةُ: «لَمْ أَفْقَهْ عَنْهُ بَعْضَ حُرُوفِ أَبِي الْمِنْهَالِ كَمَا أَرَدْتُ»

حضرت ایاس بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو پانی کی فروخت سے منع فرماتے سنا۔

استادقتیبہ نے کہا کہ میں اس (استاد سفیان بن عیینہ) سے ابو منہال کے بعض حراف اس طرح نہیں سمجھ سکا جس طرح میں چاہتا تھا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کو جب سفیان نے حدیث کی تو اسے ابو منہال کی حدیث کے بعض الفاظ کی اس طرح سمجھ نہ آ سکی جس طرح وہ چاہتے تھے شاید وہاں بھیڑ وغیرہ ہو اور یہ استاد سے کچھ فاصلے پر ہوں یا کوئی اور وجہ بھی ہو سکتی ہے۔واللہ اعلم

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت