فهرس الكتاب

الصفحة 1334 من 5761

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل

سلام پھیر نے اور مقتدیوں کی طرف منہ موڑنے کے درمیان امام کا(کچھ دیر قبلہ رخ )بیٹھنا

1334 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَتْنِي هِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ الْفِرَاسِيَّةُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ النِّسَاءَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ إِذَا سَلَّمْنَ مِنْ الصَّلَاةِ قُمْنَ وَثَبَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ صَلَّى مِنْ الرِّجَالِ مَا شَاءَ اللَّهُ فَإِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ الرِّجَالُ

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں عورتیں نماز سے سلام پھیرتے ہی اٹھ کر چلی جاتی تھیں جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ نماز پڑنے والے مرد نمازی، جب تک اللہ تعالیٰ چاہتا (کافی دیر تک) بیٹھے رہتے۔ پھر جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے تو مرد بھی اٹھ کر چلے جاتے۔

(۱) اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ باب کا مقصد یہ ہے کہ سلام پھیرنے اور اٹھ کر جانے کے درمیان کچھ دیر تک ذکر اذکار کے لیے بیٹھنا چاہیے۔ ممکن ہے دونوں جگہ بیٹھنا مراد ہو۔ مقتدیوں کی طرف متوجہ ہونے سے پہلے قبلہ رخ بیٹھنا اور اٹھ کر چلے جانے سے پہلے ذکر اذکار کے لیے مقتدیوں کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھنا دونوں مسنون ہیں۔ جماعت ختم ہونے کے فورًا بعد اٹھ جانا معیوب اور سنت کے خلاف ہے الا یہ کہ کوئی عذر ہو بلکہ نماز کے اختتام کے بعد قبلہ رخ بیٹھ کر ذکر اذکار اور ادعیۂ ماثورہ پڑھنا مستحب و مسنون ہے، علاوہ امام کے کہ وہ مقتدیوں کی طرف رخ کرکے بیٹھے گا۔ (۲) امام کو مقتدیوں کے احوال کا خیال رکھنا چاہیے۔ (۳) اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ان اسباب سے بھی بچنا چاہیے جو ممنوعات تک پہنچانے والے ہوں۔ (۴) تہمت والے مقامات سے بچنا چاہیے۔ (۵) عورتیں مسجد میں نماز باجماعت کے ساتھ شامل ہوسکتی ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت