فهرس الكتاب

الصفحة 4432 من 5761

کتاب: قربانی سے متعلق احکام و مسائل

باب: اس کی اجازت کا بیان

4432 أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ قَالَ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ خَبَّابٍ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَبَّابٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَقَدَّمَ إِلَيْهِ أَهْلُهُ لَحْمًا مِنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَقَالَ مَا أَنَا بِآكِلِهِ حَتَّى أَسْأَلَ فَانْطَلَقَ إِلَى أَخِيهِ لِأُمِّهِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ وَكَانَ بَدْرِيًّا فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ بَعْدَكَ أَمْرٌ نَقْضًا لِمَا كَانُوا نُهُوا عَنْهُ مِنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ

حضرت عبداللہ بن خباب سے روایت ہے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ایک سفر سے واپس تشریف لائے تو ان کے گھر والوں نے ان کو قربانی کا گوشت پیش کیا۔ وہ فرمانے لگے: میں تو نہیں کھائوں گا حتیٰ کہ میں یہ مسئلہ پوچھوں، پھر وہ اپنے اخیافی (مادری) بھائی حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ جو بدری صحابی تھے، کے پاس گئے اور ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا: آپ کے بعد ایک نیا حکم جاری ہو چکا ہے، اس حکم کو ختم کرنے کے لیے جس میں انہیں (صحابہ کرام کو) تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع کر دیا گیا تھا۔ (مطلب یہ ہے کہ تمہارے بعد ایک نیا حکم جاری ہو چکا ہے۔ جس سے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت نہ کھانے کا حکم منسوخ ہو گیا ہے۔)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت