فهرس الكتاب

الصفحة 2374 من 5761

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل

نبیﷺ'آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں'کے روزے کا بیان اور اس بارے میں وارد روایت کے ناقلین کےاختلاف کا ذکر

2374 أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ الْحُرِّ بْنِ صَيَّاحٍ عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ امْرَأَتِهِ قَالَتْ حَدَّثَتْنِي بَعْضُ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَتِسْعًا مِنْ ذِي الْحِجَّةِ وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ الشَّهْرِ أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنْ الشَّهْرِ وَخَمِيسَيْنِ

حضرت ہنیدہ بن خالد کی زوجہ محترمہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: مجھ سے نبیﷺ کی کسی زوجہ محترمہ نے بیان فرمایا کہ نبیﷺ عاشورائِ محرم، ذوالحجہ کے پہلے نو دن اور ہر مہینے کے تین دن، مہینے کا پہلا سوموار اور دو ابتدائی جمعراتیں روزہ رکھا کرتے تھے۔

مندرجہ بالا اٹھائیس روایات میں رسول اللہﷺ فداہ ابی وامی ونفسی وروحی کے نفل روزوں کی مختلف کیفیات بیان کی گئی ہیں اور ان میں کوئی تضاد نہیں۔ آپ کبھی کسی کیفیت سے روزے رکھتے تھے اور کبھی کسی کیفیت سے۔ اور یہی زیادہ مناسب ہے کیونکہ نفل روزوں میں سہولت کا خیال رکھنا چاہیے۔ کسی ایک طریقے کو اختیار کر کے اس پر اس طرح جم جانا کہ اس سے نکلنا گناہ سمجھنا، تشدد اور تکلف فی الدین کے زمرے میں آتا ہے، اس لیے نفل کا معاملہ کھلا رکھنا چاہیے کیونکہ نفل کا مدار خوشی اور نشاط پر ہے، البتہ شریعت کی ہدایات ملحوظ خاطر رہیں، مثلًا: روزہ ہمیشہ نہ رکھے۔ عیدین اور ایام تشریق میں روزہ نہ رکھے۔ شک والے دن اور شعبان کی آخری تاریخوں میں نہ رکھے۔ وغیرہ وغیرہ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت