فهرس الكتاب

الصفحة 3480 من 5761

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

لونڈی آزاد ہوجائے تو اور اس کا خاوند پہلے سے آزاد ہوتو کیا اسے اختیا ہوگا؟

3480 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطُوا وَلَاءَهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ وَأُتِيَ بِلَحْمٍ فَقِيلَ إِنَّ هَذَا مِمَّا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَقَالَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ میں نے بریرہ کو خریدنے کا ارادہ کیا مگر اس کے مالکوں نے ولا کی شرط لگالی۔ میں نے یہ بات نبیﷺ سے ذکر کی تو آپ نے فرمایا: ''تو خرید کر آزاد کردے۔ ولا تو اسی کے لیے ہوتا ہے جو آزاد کرتا ہے۔'' نیز آپ کے پاس گوشت لایا گیا تو اور بتایا گیا کہ یہ گوشت بریرہ پر صدقہ کی گیا تھا (اس نے ہمیں بھیجا ہے۔) آپ نے فرمایا: ''وہ اس کے لیے صدقہ تھا' ہمارے لیے تحفہ ہے۔'' نیز رسول اللہﷺ نے اسے اختیار دیا جب کہ اس کا خاوند آزاد تھا۔

تفصیل کے لیے دیکھیے حدیث:3476'3477'3479۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت