حاکم کے سامنے مقدمہ پیش کرنے کے بعد متعلقہ شخص کا چور کو چوری معاف کرنا اور صفوان بن امیہ کی حدیث میں عطاء پر اختلاف کا بیان
4884 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ قَالَ أَنْبَأَنَا حِبَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ رَجُلًا سَرَقَ ثَوْبًا فَأُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ لَهُ قَالَ فَهَلَّا قَبْلَ الْآنَ
حضرت عطاء بن ابو رباح سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کپڑا چرالیا ۔ اسے پکڑ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا ۔ آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا ۔ (کپڑے والے ) آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ! یہ کپڑا اس کو معاف ہے ۔ آپ نے فرمایا: '' اس وقت سے پہلے کیوں نہ ( معاف) کیا۔''