حاکم کے سامنے مقدمہ پیش کرنے کے بعد متعلقہ شخص کا چور کو چوری معاف کرنا اور صفوان بن امیہ کی حدیث میں عطاء پر اختلاف کا بیان
4883 أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ مُرَقَّعٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّ رَجُلًا سَرَقَ بُرْدَةً فَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ تَجَاوَزْتُ عَنْهُ قَالَ فَلَوْلَا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ يَا أَبَا وَهْبٍ فَقَطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت صفوان بن امیہ ؓسے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ( میری) چادر چرالی ۔ وہ اسے نبی اکرمﷺ کے پاس لے گئے ۔ آپ نے اس کا ہاتھ کاٹ دینے کا حکم دیا ۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میں نے اسے معاف کردیا ۔ آپ نے فرمایا: '' ابو وہب ! تو نے یہ کام میرے پاس پیش کرنے سے پہلے کیوں نہ کیا ؟ '' پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔