2098 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ الْبُخَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ وَالنُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ لَعْنَةٍ تُذْكَرُ كَانَ إِذَا كَانَ قَرِيبَ عَهْدٍ بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام يُدَارِسُهُ كَانَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنْ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ حَدِيثُ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ وَأَدْخَلَ هَذَا حَدِيثًا فِي حَدِيثٍ
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے کوئی لعنت ایسی نہیں کی جو قابل ذکر ہو۔ اور جب حضرت جبریل علیہ السلام سے دور کرنے کا وقت قریب ہوتا تو آپ (تیز) چھوڑی ہوئی ہو اسے بڑھ کر سخاوت فرمایا کرتے تھے۔
امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ روایت غلط ہے، صحیح روایت یونس بن یزید کی ہے۔ اس حدیث کے راوی نے دو حدیثوں کو گڈمڈ کردیا ہے۔
: (۱) امام صاحب کا مقصود یہ ہے کہ اس حدیث میں لعنت کا ذکر غلطی ہے بلکہ وہ ایک اور روایت ہے۔ راوی نے غلطی سے اس حدیث میں بھی لعنت والے الفاظ ذکر کر دیئے، یونس بن یزید کی روایت میں لعنت کا ذکر نہیں اور یہی درست ہے۔ (۲) ''قابل ذکر ہو'' مطلب یہ ہے کہ لعنت کرنا نبیﷺ کی عادت نہ تھی۔ حقیقت یہی ہے کہ آپ نے شخصی طور پر کبھی کسی پر لعنت کی ہی نہیں۔ بعض انتہائی ناقابل برداشت لوگوں پر ان کی بری صفت ذکر کے لعنت کی ہے، مثلًا: [لَعَنَ اللّٰہُ السَّارِقَ یَسْرِقُ الْبَیْضَۃَ فَتُقْطَعُ یَدُہُ] (صحیح البخاری، الحدود، حدیث: ۶۷۸۳، وصحیح مسلم، الحدود، حدیث: ۱۶۸۷)