فهرس الكتاب
2061 أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَسَمِعَ صَوْتًا فَقَالَ: «يَهُودُ تُعَذَّبُ فِي قُبُورِهَا»
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غروب شمس کے بعد باہر تشریف لے گئے۔ آپ نے ایک آواز سنی تو فرمایا: ''یہودیوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہو رہا ہے۔''
عذاب قبر سب کو ہوتا ہے۔ کسی کو سوال و جواب کی حد تک، کسی کو اس سے بڑھ کر بھینچنے کی حد تک، کسی کو کچھ دیر کے لیے، کسی کو ہمیشہ کے لیے (قیامت تک) ۔ غالبًا وہاں قریب ہی یہودیوں کا قبرستان تھا۔ یہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا۔