کتاب: مواقیت کا بیان
2830 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرٍو عَنْ الْمُطَّلِبِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَادَ لَكُمْ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ وَإِنْ كَانَ قَدْ رَوَى عَنْهُ مَالِكٌ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا: ''تمھارے لیے خشکی کا شکار کھانا حلال ہے بشرطیکہ تم نے شکار نہ کیا ہو اور نہ تمھارے لیے شکار کیا گیا ہو۔''
ابوعبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ راوی حدیث عمرو بن ابی عمرو علم حدیث میں قوی نہیں اگرچہ امام مالک نے ان سے روایت لی ہے۔
(۱) نبیﷺ کا یہ فرمان محرمین کے لیے ہے۔ خشکی کی قید اس لیے لگائی کہ سمندری شکار قرآن کی رو سے متفقہ طور پر محرم کے لیے بھی کرنا جائز ہے اور کھانا بھی، البتہ خشکی کا شکار محرم نہ خود کر سکتا ہے اور نہ کسی سے اس سلسلے میں تعاون کر سکتا ہے، ہاں کسی حلال شخص نے اپنے لیے شکار کیا ہو، پھر وہ اس سے محرم کو تحفہ دے دے تو وہ کھا سکتا ہے، نیز اگر اس نے شکار محرم کے لیے کیا ہو تو محرم کے لیے وہ کھانا بھی جائز نہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے، حدیث: ۲۸۲۱) (۲) امام نسائی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے ایک راوی عمرو بن ابی عمرو کو ضعیف کہا ہے مگر کثیر محدثین نے اسے قوی کہا ہے حتیٰ کہ امام بخاری ومسلمL تو اس کی حدیثیں اپنی صحیحین میں لائے ہیں، لہٰذا یہ راوی ثقہ ہے۔ لیکن دوسری وجوہ سے یہ روایت ضعیف ہے، جس کی صراحت تخریج میں ہے، تاہم مسئلہ صحیح ہے۔