فهرس الكتاب

الصفحة 4537 من 5761

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

باب۔ کھجور کے(درخت پر لگے ہوئے)تازہ پھل کا خشک کھجوروں سے سودا کرنا

4537 أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يُبَاعَ مَا فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِتَمْرٍ بِكَيْلٍ مُسَمًّى إِنْ زَادَ لِي وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيَّ

حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا۔ اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت پر لگا ہوا پھل (کھجور) معین وزن (یا ماپ) کی خشک کھجوروں کے بدلے بیچا جائے کہ اگر کھجور کا پھل زیادہ ہوا تو اس کا فائدہ بھی مجھے ہے اور اگر پھل کم ہوا تو اس کا نقصان بھی مجھے ہو گا۔

''کہ اگر کھجور کا پھل'' یہ جملہ پھل کے خریدار کی زبانی ہے کیونکہ ہے اس کا فائدہ نقصان اسی کو ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت