فهرس الكتاب

الصفحة 108 من 5761

کتاب: وضو کا طریقہ

پگڑی پر پیشانی سمیت مسح کا ذکر

108 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَخَلَّفْتُ مَعَهُ فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ قَالَ أَمَعَكَ مَاءٌ فَأَتَيْتُهُ بِمِطْهَرَةٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسُرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمُّ الْجُبَّةِ فَأَلْقَاهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَعَلَى الْعِمَامَةِ وَعَلَى خُفَّيْهِ

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (ایک سفر میں) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (لوگوں سے) پیچھے رہ گئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ رہا۔ جب آپ قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ''کیا تیرے پاس پانی ہے؟'' چنانچہ میں آپ کے پاس لوٹا لایا تو آپ نے اپنی ہتھیلیاں دھوئیں اور چہرہ دھویا، پھر اپنے بازوؤں سے کپڑا ہٹانے لگے مگر جبے کی آستین تنگ تھی تو آپ نے جبے کو کندھوں پر ڈال لیا، پھر اپنے بازو دھوئے اور اپنی پیشانی، پگڑی اور موزوں پر مسح فرمایا۔

''آپ نے جبے کو کندھوں پر ڈال لیا۔'' جبہ تو آپ نے پہلے سے پہنا ہوا تھا۔ اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ آستینیں تنگ ہونے کی وجہ سے آپ نے بازو نیچے سے نکال لیے۔ اب جبہ صرف کندھوں پر رہ گیا اور آستینیں بازوؤں سے خالی ہوگئیں۔ امام صاحب نے یہاں مختصر حدیث بیان کی ہے، مکمل حدیث مع فوائد پیچھے گزر چکی ہے۔ دیکھیے: حدیث ۸۲۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت