فهرس الكتاب

الصفحة 1164 من 5761

کتاب: رکوع کے دوران میں تطبیق کا بیان

پہلا تشہد کیسے پڑھا جائے؟

1164 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَقَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا لَا نَدْرِي مَا نَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ غَيْرَ أَنْ نُسَبِّحَ وَنُكَبِّرَ وَنَحْمَدَ رَبَّنَا وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَ فَوَاتِحَ الْخَيْرِ وَخَوَاتِمَهُ فَقَالَ إِذَا قَعَدْتُمْ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ فَقُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَلْيَتَخَيَّرْ أَحَدُكُمْ مِنْ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَلْيَدْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم (پہلے پہل) نہیں جانتے تھے کہ دو رکعتوں کے بعد (بیٹھ کر) کیا پڑھیں مگر ہم تسبیح، تکبیر اور اپنے رب کی حمد پڑھتے رہتے تھے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نیکی کی ابتدا و انتہا (نیکی کے تمام امور) کی تعیم دی۔ آپ نے فرمایا: ''جب تم ہر دو رکعتوں کے بعد بیٹھو تو یہ پڑھو: [التحیات للہ والصلوات………] تمام آداب، دعائیں اور اچھے کلمات اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر اور اللہ تعالیٰ کے دوسرے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں۔'' اور تم میں سے ہر آدمی وہ دعاا منتخب کرے جو اسے زیادہ اچھی لگے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے وہ دعا کرے۔''

اگر دو رکعتوں کے بعد سلم پھیرنا ہو تو درود شریف کے بعد دعا بھی کی جائے گی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت