1172 أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَيْفٌ الْمَكِّيُّ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنْ الْقُرْآنِ وَكَفُّهُ بَيْنَ يَدَيْهِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تتشہد اس طرح سکھایا جس طرح قرآن مجید کی کوئی سورت سکھاتے تھے۔ (جب آپ نے مجھے یہ تشہد سکھایا تو) میری ہتھیلی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں مبارک ہاتھوں کے درمیان تھی: [التحیات للہ و الصلوات والطیبات، السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ و برکاتہ، السلام علینا و علی عباد اللہ الصالحین، اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ہتھیلی آپ کے مبارک ہاتھوں میں شفقت اور تعلیم کی طرف توجہ کے لیے تھی۔ معلوم ہوا کسی وجہ سے کسی کے ہاتھ کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا جا سکتا ہے، مثلًا: بطور احترام۔ امام خباری رحمہ اللہ اس روایت کو دو ہاتھ سے مصافحے کے باب میں لائے ہیں۔ گویا وہ بتا رہے ہیں کہ وہ ہاتھوں سے مصافحہ کرنے کا اگر کوئی ثبوت ہے تو یہی ہے جو کہ درحقیقت ثبوت نہیں۔ یقینًا مصافحہ ایک ہاتھ سے مکمل ہو جاتا ہے مگر کسی اور وجہ سے اگر دوسرا ہاتھ ساتھ لگایا جائے، مثلًا: بطور احترام یا شفقت یا تفہیم وغیرہ تو یہ الگ امر ہے اور جائز ہے، البتہ یہ مصافحے کا جز نہیں۔ مصافحہ تو ایک ہاتھ ہی سے مسنون ہے اور خود مصافحے کا لفظ بھی اسی معنی پر دلالت کرتا ہے کیونکہ مصافحے کے معنی ہیں: ہتھیلی کا ہتھیلی سے ملنا۔ اس میں دونوں ہاتھوں کا کوئی تصور نہیں ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، مولانا عبدالرحمٰن مبارکپوری رحمہ اللہ کی کتاب (المقالۃ الحسنی فی سنیۃ المصافحۃ بالید الیمنی)