فهرس الكتاب

الصفحة 1197 من 5761

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل

نماز میں اِدھر اُدھر دیکھنے کی سخت ممانعت

1197 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الِالْتِفَاتِ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ الصَّلَاةِ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ''یہ اچکنا ہے کہ شیطان اسے نماز سے اچک لیتا ہے۔''

نماز میں ادھر ادھر دیکھنا بہت قبیح فعل ہے جس کا نماز پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ (جیسے کسی جانور سے درندہ کچھ گوشت نوچ کر لے جائے تو وہ جانور فورًا مرتا بھی نہیں، بچتا بھی نہیں، اگر بچے بھی تو وہ جانور بہت ناقص ہو جاتا ہے) اس لیے اس فعل کی نسبت شیطان کی طرف کر دی گئی۔ ویسے بھی اس قسم کے افعال شیطانی وسوسے کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت