فهرس الكتاب

الصفحة 120 من 5761

کتاب: وضو کا طریقہ

موزوں پر مسح کرنا

120 أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ دُحَيْمٌ وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَاللَّفْظُ لَهُ عَنْ ابْنِ نَافِعٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِلَالٌ الْأَسْوَاقَ فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ خَرَجَ قَالَ أُسَامَةُ فَسَأَلْتُ بِلَالًا مَا صَنَعَ فَقَالَ بِلَالٌ ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ثُمَّ صَلَّى

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ اسواف میں داخل ہوئے تو آپ قضائے حاجت کے لیے گئے، پھر باہر نکلے تو اسامہ نے کہا: میں نے بلال سے پوچھا کہ آپ نے کیا کیا؟ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے گئے، پھر وضو فرمایا، اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کو دھویا، اپنے سر کا مسح فرمایا اور موزوں پر مسح فرمایا، پھر نماز پڑھی۔

(۱) [أسواف] سے مدینہ منورہ کا حرم مراد ہے۔ (۲) صحابۂ کرام ؓ ہمہ وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال معلوم کرنے کی جستجو میں لگے رہتے تھے تاکہ وہ انھیں اپنا کر دنیا و پخرت کی بھلائیاں حاصل کرسکیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت