1214 أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ يَعْنِي ابْنَ مُدْرِكٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُجَيٍّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ لِي عَلِيٌّ كَانَتْ لِي مَنْزِلَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ مِنْ الْخَلَائِقِ فَكُنْتُ آتِيهِ كُلَّ سَحَرٍ فَأَقُولُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَإِنْ تَنَحْنَحَ انْصَرَفْتُ إِلَى أَهْلِي وَإِلَّا دَخَلْتُ عَلَيْهِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک میرے لیے خصوصی مرتبہ و مقام تھا جو کسی دوسرے کا نہ تھا۔ میں ہر رات سحری کے وقت آپ کے پاس جاتا اور کہتا [اسلام علیک یا نبی اللہ] اگر آپ کھنکھارتے تو میں واپس گھر آجاتا ورنہ آپ کے پاس (اندر) چلا جاتا تھا۔
محقق کتاب نے پہلی دو روایتوں کو صحیح اور تیسری کو حسن قرار دیا ہے لیکن دیگر محققین کے نزدیک یہ حکم محل نظر ہے کیونکہ یہ روایات اولًا منقطع، ثانیًا سندًا و متنا مضطرب ہیں، لہٰذا تینوں روایات ضعیف ہیں۔ ان روایات کا مدار عبداللہ بن نجی پر ہے جو کہ متکلم فیہ راوی ہے۔ یحییٰ بن معین فرماتے ہیں: عبداللہ بن نجی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نہیں سنی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (ذخیرۃ العقبی شرح سنن النسائي: ۱۴/۲۲۵)