فهرس الكتاب

الصفحة 1222 من 5761

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل

نماز میں(مسنون ادعیہ کے علاوہ )کوئی کلام کرنا

1222 أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا السَّلَامَ حَتَّى قَدِمْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ فَجَلَسْتُ حَتَّى إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ وَإِنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ أَنْ لَا يُتَكَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم (پہلے پہل) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو (نماز کی حالت میں) سلام کر دیا کرتے تھے اور آپ جواب بھی دے دیا کرتے تھے حتی کہ ہم حبشہ کے علاقے سے واپس آئے تو میں نے آپ کو (نماز کی حالت میں) سلام کیا۔ آپ نے مجھے جواب نہ دیا۔ مجھے تو قریب اور دور کی سوچیں آنے لگیں (کہ جواب نہ دینے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟) میں بیٹھ گیا حتی کہ جب آپ نے نماز پوری فرمائی تو فرمایا: ''بلاشبہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے، نیا حکم جاری فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ نیا حکم جاری کیا ہے کہ نماز میں بات چیت نہ کی جائے۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت