فهرس الكتاب

الصفحة 1228 من 5761

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل

جوآدمی بھول کردو رکعتوں کےبعد سلام پیھر دے اور باتیں بھی کرلےتو کیا کرئے؟

1228 أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَقَالُوا قُصِرَتْ الصَّلَاةُ فَقَامَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز کی دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ لوگوں نے کہا: کیا نماز کم ہوگئی؟ آپ اٹھے اور دو رکعتیں مزید پڑھیں، پھر سلامپ ھیرا، پھر دو سجدے کیے

پیچھے گزر چکا ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھول گئے تھے کہ کون سی نماز تھی، ظہر یا عصر؟ اس لیے کہہ ظہر کہا، کہیں عصر۔ مگر اس سے اصل مسئلے پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ دونوں نمازیں ایک جیسی ہیں

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت