فهرس الكتاب
1231 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوْ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ وَانْصَرَفَ فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ ابْنُ عَمْرٍو أَنُقِصَتْ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالُوا صَدَقَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَأَتَمَّ بِهِمْ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ نَقَصَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا اور اٹھ کر چل دیے تو ذوالشمالین بن عمرو رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: کیا نماز کم ہوگئی یا آپ بھول گئے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ''ذوالیدین کیا کہتا ہے؟'' انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! سچ کہتا ہے۔ آپ نے پھر وہ دو رکعتیں مکمل فرمائیں جو رہ گئی تھیں
اس روایت میں دو غلطیاں ہیں۔ ایک تو ذوالشمالین بن عبد عمرو ہونا چاہیے، دوسرے اس ذوالشمالین کا ذکر راوی کی غلطی اور شذوذ ہے۔ یہ تو بدر میں شہید ہونے والے ذوالشمالین ہیں جو اس واقعے سے بہت پہلے کے ہیں