فهرس الكتاب

الصفحة 1254 من 5761

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل

(شک کی صورت میں صحیح تعداد جاننے کی) جستجو کرنا

1254 أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب نماز کے لیے اذان کہی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے۔ جب اقامت پوری ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے حتی کہ نمازی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اسے پتہ نہیں چلتا کہ میں نے کتنی نماز پڑھی ہے؟ جب تم میں سے کوئی شخص یہ صورت حال دیکھے (محسوس کرے) تو (نماز یقین کے مطابق مکمل کرنے کے بعد) دو سجدے کرے۔''

(۱) شیطان کا گوز مارتا اذان کا اثر بھی ہوسکتا ہے (جیسے گدھے پر زیادہ بوجھ لدا ہو تو وہ گوز مارتا ہے) یا اس لیے کہ اذان نہ سن سکے (گوز کی آواز کی وجہ سے) یا یہ کنایہ ہے کہ اذان شیطان کے لیے بہت پریشان کن ہے۔ (۲) دیگر روایات میں اذان کے بعد واپسی اور پھر اقامت کے موقع پر بھاگنے کا بھی ذکر ہے۔ دیکھیے: (صحیح البخاری، الأذان، حدیث: ۶۰۸، و صحیح مسلم، الصلاۃ، حدیث: ۲۸۷) یہ روایت مختصر ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت