1258 أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يَقُولُ سَهَا عَلْقَمَةُ بْنُ قَيْسٍ فِي صَلَاتِهِ فَذَكَرُوا لَهُ بَعْدَ مَا تَكَلَّمَ فَقَالَ أَكَذَلِكَ يَا أَعْوَرُ قَالَ نَعَمْ فَحَلَّ حُبْوَتَهُ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ وَقَالَ هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَسَمِعْتُ الْحَكَمَ يَقُولُ كَانَ عَلْقَمَةُ صَلَّى خَمْسًا
حضرت شعبی بیان کرتے ہیں کہ حضرت علقمہ بن قیس اپنی نماز میں بھول گئے۔ ان کے کلام وغیرہ کرنے کے بعد لوگوں نے ان سے ذکر کیا تو کہنے لگے: اے اعور! کیا ایسے ہی ہوا ہے؟'' اس نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے اپنی گوٹھ کھولی، پھر سہو کے دو سجدے کیے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کیا تھا۔ (راویٔ حدیث) مالک بن مغول نے کہا: میں نے حضرت حکم بن عتبیہ فرماتے سنا کہ علقمہ نے (سہوًا) پانچ رکعتیں پڑھ لی تھیں۔
اصل روایت تو مالک بن مغول نے حضرت شعی سے بیان کی ہے جس میں صرف سہو کا ذکر ہے۔ یہ وضاحت نہیں کہ کیا سہو ہوا تھا؟ یہ وضاحت حضرت حکم کی روایت میں ہے کہ وہ سہوًا پانچ رکعات پڑھ چکے تھے۔ شعی اور حکم دونوں حرت علقمہ کے شاگرد ہیں۔